1 / 42

تدوین حدیث

تدوین حدیث. تدوین حدیث:. پہلا طریقہ حفظ روایت :. اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو غیر معمولی حافظے عطا فرمائے تھے، وہ صرف اپنے ہی نہیں اپنے گھوڑوں تک کے نسب نامہ یاد کرلیا کرتے تھے- ایک شخص کو ہزاروں اشعار حفظ ہوتے تھے- مثلاً:

morgan
Download Presentation

تدوین حدیث

An Image/Link below is provided (as is) to download presentation Download Policy: Content on the Website is provided to you AS IS for your information and personal use and may not be sold / licensed / shared on other websites without getting consent from its author. Content is provided to you AS IS for your information and personal use only. Download presentation by click this link. While downloading, if for some reason you are not able to download a presentation, the publisher may have deleted the file from their server. During download, if you can't get a presentation, the file might be deleted by the publisher.

E N D

Presentation Transcript


  1. تدوین حدیث

  2. تدوین حدیث: پہلا طریقہ حفظ روایت : اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو غیر معمولی حافظے عطا فرمائے تھے، وہ صرف اپنے ہی نہیں اپنے گھوڑوں تک کے نسب نامہ یاد کرلیا کرتے تھے- ایک شخص کو ہزاروں اشعار حفظ ہوتے تھے- مثلاً: (۱) حضرت جعفر بن عمر و الضمری اور عبیداللہ بن عدی بن الخیار کا حضرت وحشی سے ملنے جانا (بخاری) (۲) مروان الحکم کا حضرت ابو ہریرہؓ کے حافظہ کا امتحان لینا

  3. تدوین حدیث: دوسرا طریقہ تعامل: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْل اللہ ﷺیَفْعَلُ

  4. تدوین حدیث: تیسرا طریقہ کتابت: احادیث کی حفاظت کتابت کے ذریعہ سے بھی کی گئی اور تاریخی طور پر کتابت حدیث کو چار مراحل پر تقسیم کیا جاسکتا ہے: (۱) متفرق طور سے احادیث کو قلمبند کرنا (۲) کسی ایک شخصی صحیفہ میں احادیث کو جمع کرنا جس کی حیثیت ذاتی یادداشت کی ہو (۳) احادیث کو کتابی صورت میں بغیر تبویب کے جمع کرنا (۴) احادیث کو کتابی صورت میں تبویب کے ساتھ جمع کرنا عہد رسالتؐ اور عہد صحابہ میں کتابت کی پہلی دو قسمیں اچھی طرح رائج ہوچکی تھیں-

  5. (۱)امام ترمذی نے جامع ترمذی کے کتاب العلم میں باب ماجاء فی الرخصة فیہ کے تحت حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ: قال کان رجل من الانصار یجلس الیٰ رسول اللہ ﷺ فیسمع من النبی ﷺ الحدیث فیعجبہ ولا یحفظہ فشکی ذٰلک الیٰ رسول اللہ ﷺ فقال یا رسول اللہ انی لاسمع منک الحدیث فیعجبنی ولا احفظہ فقال رسول اللہ ﷺ استعن بیمینک واوما بیدہ لخط

  6. (۲) حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاصؓ سے روایت کرتے ہیں کہ: کنت اکتب کل شی ء اسمعہ من رسول اللہ ﷺ ارید حفظہ فنھتنی قریش و قالوا اتکتب کل شی تسمعہ و رسول اللہ ﷺ بشر یتکلم فی الغضب والرضا فامسکت عن الکتابة فذکرت ذٰلک الیٰ رسول اللہ ﷺ فاوما باصبعہ الیٰ فیہ فقال اکتب فوالذی نفسی بیدہ مایخرج منہ الاحق (ابو داؤد –ج-دوم\ ص-۵۱۳)

  7. (۳) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: قَیِّدُ وا الْعِلْمَ قُلْتُ وَمَا تُقَیِّدُہُ قَالَ کِتَابَتُہُ • (مستدرک :ج- ۱: ص- ۱۰۶) (۴) عن ابی ہریرہؓ ان النبی ﷺ خطب فذکر قصة فی الحدیث فقال ابو شاہ اکتبوالی یا رسو ل اللہ ﷺ اکتبوا لا بی شاہ

  8. (۱) الصحیفة الصادقة: مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ نے احادیث کا جو مجموعہ تیار کیا تھا اس کا نام " الصحیفة الصادقة " رکھا تھا- یہ عہد صحابہؓ کے حدیثی مجموعوں میں سب سے زیادہ ضخیم صحیفہ تھا، اس کی احادیث کی کل تعداد یقینی طور سے معلوم نہیں ہوسکی-

  9. (۲) صحیفہ علیؓ، ابو داؤد (ج ۱ - ص ۲۷۸) "کتاب المناسک باب فی تحریم المدینة" کے تحت حضرت علیؓ کا یہ قول منقول ہے: ما کتبنا عن رسول اللہ ﷺالا القرآن و ما فی ھٰذہ الصحیفہ یہی روایت بخاری میں چار مقامات پر اور مسلم میں دو مقام پر اور نسائی و ترمذی میں بھی تخریج کی گئی ہے- حضرت علیؓ کا صحیفہ ان کی تلوار کی نیام میں رہتا تھا-

  10. (۳) کتاب الصدقہ: یہ ان احادیث کا مجموعہ تھا جو آنحضرتﷺ نے خود املاء کرائی تھیں، اس میں زکوٰة و صدقات اور عشر وغیرہ کے احکام تھے- (۴) صحف انس بن مالکؓ: حضرت سعید بن ہلالؓ فرماتے ہیں کہ: کنا اذا اکثرنا علیٰ انس بن مالکؓ فاخرج الینا محالاً عندہ فقال ھذہ سمعتھا من النبیﷺ فکتبتھا وعرضتھا-

  11. (۵) صحیفہ عمرو بن حزم (۶) صحیفہ ابن عباسؓ (۷) صحیفہ ابن مسعودؓ • (۸) صحیفہ جابر بن عبداللہ ؓ (۹) صحیفہ سمرہ بن جندبؓ (۱۰) صحیفة سعد بن عبادہ: (۱۱) صحف ابی ہریرہ

  12. (ا) مسند ابی ہریرہؓ (ب) مولف بشیر بن نہیکؓ (حضرت ابو ہریرہؓ کے شاگرد ہیں) (ج) صحیفہ ہمام بن منبہؒ یہ چند مثالیں اس بات کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں کہ عہد رسالتؐ اور عہد صحابہؓ میں کتابت حدیث کا طریقہ خوب اچھی طرح رائج ہوچکا تھا-

  13. حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا زمانہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانہ تک کتابت حدیث اپنی پہلے دو مرحلوں میں تھی لیکن اب وہ وقت آچکا تھا کہ احادیث کی باقاعدہ تدوین ہو کیونکہ اب قرآن کریم کے ساتھ اس کے اختلاط و التباس کا اندیشہ نہیں تھا-

  14. (۱) کتب ابی بکرؒ (۲) رسالہ سالم بن عبداللہ فی الصدقات (۳) دفاتر الزہری (۴) کتاب السنن لمکحولؒ (۵) ابو الشعبیؒ

  15. دوسری صدی ہجری: یہ مبوب کتب حدیث کی محض ابتداء تھی، دوسری صدی ہجری میں تدوین حدیث کا کام اور زیادہ قوت کے ساتھ شروع ہوا- اس دور میں جو کتب حدیث لکھی گئیں، ان کی تعداد بیس سے بھی زیادہ ہے- (۱) کتاب الآثار لابی حنیفہؒ (۲) المؤطاء للام مالکؒ (۳) جامع معمر بن راشدؒ (۴) جامع سفیان ثوریؒ • (۵) السنن لابن جریج ؒ (۶) السنن لوکیع بن الجراحؒ (۷) کتاب الزہد عبد اللہ بن المبارکؒ

  16. تیسری صدی ہجری میں تدوین حدیث: اس صدی میں تدوین حدیث کا کام اپنی شباب کو پہنچ گیا- اسی دور میں صحاح ستہ کی تالیف ہوئی- (۱۱) المستدرک للحاکم (۱۲) المعاجم للطبرانیؒ (۱۳) مسند الدارمی (۱۴)السنن الکبری للبیہقی (۱۵) سنن الدار قطنی (۱) صحیح بخاری (۲) صحیح مسلم (۳) سنن ترمذی (۴) سنن ابی داؤد (۵) سنن نسائی (۶) سنن ابن ماجہ (۷) مسند ابی داؤد طیالسیؒ (۸) مسند احمدؒ (۹) مصنف عبدالرزاق (۱۰) مصنف ابی بکر بن ابی شیبہ

  17. صحت کے اعتبار سے کتب حدیث کے طبقات کتب حدیث کا پہلا طبقہ (۱)صحیح بخاری مرتبہ: امام بخاری (المتوفی ٰ ۲۵۶ھ) (۲)صحیح مسلم مرتبہ: امام مسلم (المتوفی ٰ ۲۶۱ھ) (۳)مؤطا امام مالک مرتبہ: امام مالک (المتوفی ٰ ۱۷۹ھ)

  18. صحت کے اعتبار سے کتب حدیث کے طبقات کتب حدیث کا دوسرا طبقہ: (۴) سنن نسائی (نسائی میں ضعیف حدیثیں سب سے کم ہیں) مرتبہ: امام نسائی (المتوفی ٰ ۳۰۳ھ) (۵) جامع ترمذی مرتبہ: امام ترمذی (المتوفی ٰ ۲۷۹ھ) (۶) سنن ابی دائود مرتبہ: امام ابو دائود (المتوفی ٰ ۲۷۵ھ)

  19. صحت کے اعتبار سے کتب حدیث کے طبقات کتب حدیث کا تیسرا طبقہ: (۷) سنن ابن ماجہ مرتبہ: امام ابن ماجہ (المتوفی ٰ ۲۷۳ھ) (۸) سنن دارمی مرتبہ: امام دارمی (المتوفی ٰ ۲۵۵ھ) (۹) مسند احمدِ مرتبہ: امام احمد (المتوفی ٰ ۲۴۱ھ) (۱۰) سنن بیہقی مرتبہ: امام بیہقی (المتوفی ٰ ۴۵۸ھ) (۱۱) کتب طبرانی مرتبہ: امام طبرانی (المتوفی ٰ ۳۶۰ھ)

  20. صحت کے اعتبار سے کتب حدیث کے طبقات کتب حدیث کا چوتھا طبقہ: (۱۲) کتب خطیب بغدادی (المتوفی ٰ ۴۶۳ ھ) (۱۳) تصانیف ابن عساکر (المتوفی ٰ ۵۷۱ ھ) (۱۴) تصانیف واقدی (ابن سعد کے استاد)(المتوفی ٰ ۲۰۷ ھ)

  21. کتب حدیث کی قسمیں (1) جَامِع: (جمع جَوَامِع) جامع، حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں تمام موضوعات پر حدیثیں موجود ہوں- بالخصوص عقائد، احکام، رقاق، آدابِ طعام و شرب، تفسیر و تاریخ و سیرت، قیام و قعود و سفر، مناقب و مثالب اور باب الفتن وغیرہ- جیسے: (a)صحیح البخاری کا پورا نام (الجَامِع المُسْنَد الصَّحیِح مِنْ اُمورِ رَسُولِ اللہ ِ ﷺ وَ سُنَنِہِ وَاَیَّامِہِ ) ہے- (b)جامع ترمذی

  22. کتب حدیث کی قسمیں (2) السنن محدثین کی اصطلاح میں سنن، حدیث کی ایسی کتب کو کہتے ہیں جو ابواب فقہ کے مطابق مرتب کی گئی ہوں- (a) سنن ابی دائود (b) سنن ترمذی (c) سنن ابن ماجہ (d) سنن نسائی

  23. کتب حدیث کی قسمیں (3) مُسْنَد: (جمع مَسَانِید) مسند میں احادیث، صحابہ کرام کے ناموں کے حروف تہجی کے اعتبار سے بالترتیب جمع کی جاتی ہیں- (a)مسند امام احمد بن حنبل(المتوفی ٰ ۲۴۱ ھ) (b)مسند ابی دائود طیالسی(المتوفی ٰ ۲۰۴ ھ) (c)مسند بقی بن مخلد(المتوفی ۲۹۶ ھ)

  24. کتب حدیث کی قسمیں (4) مُعْجَم : (جمع مَعَاجِم) معجم میں احادیث، بترتیب ِحروف تہجی، شیوخ، بلدان اور قبائل کے ناموں کے لحاظ سے درج کی جاتی ہیں- (a)معجم کبیر لطبرانی(المتوفی ٰ م۳۶۰ ھ) (b)معجم متوسط لطبرانی (c)مسند صغیر لطبرانی

  25. کتب حدیث کی قسمیں (5) مُسْتَدرَک : (جمع مُسْتَدرَکات) مستدرک، حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں کسی دوسرے مصنف کی شرائط کے مطابق احادیث جمع کی جائیں، جو اصل مصنف کی کتاب میں موجود نہ ہوں- مستدرک حاکم علی الصحیحین (امام حاکم نیشاپوری المتوفی ٰ ۴۰۵ ھ) اس کتاب میں امام بخاری اور امام مسلم کی شرائط کے مطابق احادیث جمع کرنے کی کوشش کی ہے-

  26. کتب حدیث کی قسمیں (6) مُسْتَخْرَج :(جمع مُسْتَخْرَجَات) مستخرج میں حدیث کا عالم، کسی دوسرے مصنف کی کتاب میں درج احادیث کو، اپنی سند سے بیان کرتا ہے- (a)مستخرج ابی بکر اسماعیل علیٰ صحیح البخاری (b)مستخرج ابی عوانہ علیٰ صحیح مسلم(المتوفی ٰ ۳۱۶ ھ)

  27. امام محمد بن اسماعیل بن ابراہیم البخاریؒ (پیدائش۱۳ شوال ۱۹۴ھ، وفات ۲۵۶ھ) اساتذہ:علی بن مدینیؒ (۲۳۴ھ)، ضحاک بن مخلدؒ(۲۱۲ھ)، عبید اللہ بن موسیٰ عبسیؒ (۲۱۳ھ) شاگرد:امام ترمذیؒ (م ۲۷۹ھ)،امام مسلم ؒ (م ۲۶۱ھ)،محمد بن احمد دولابی

  28. الجَامِع المُسنَد الصَّحیح من امورِ رسول اللہِ ﷺ وَ سُنَنِہٖ وَاَیَّامِہٖ امام بخاریؒ نے چھ لاکھ احادیث (سندوں)میں سے انتخاب کیا اور سولہ سال کے عرصے میں اس کتاب کو مسجد حرام (خانہ کعبہ) میں مکمل کیا- صحیح بخاری کی جمع و تالیف میں آپ نے سولہ سال صرف کیے-

  29. صحیح البخاری میں کل احادیث کی تعداد ۹۰۸۲ تکرار کے ساتھ ۷۲۷۵ تکرار کے بغیر ۲۳۶۰ صحیح البخاری میں ۲۲ثلاثیات ہیں-

  30. امام مسلمؒ بن حجاج بن مسلم قشیری نیساپوری پیدائش:۲۰۴ھ، بمقام نیشاپور وفات:۲۶۱ ھ، بمقام نیشاپور(۵۷ سال ) اساتذہ: امام سعید بن منصورؒ (م ۲۲۷ھ)، امام احمد بن حنبلؒ(م ۲۴۱ھ)،امام اسحاق بن راھویہؒ(م۲۴۴ھ) شاگرد:امام ترمذیؒ (م۲۷۹ھ)، ابو حاتم رازیؒ(م۲۷۷ھ)، ابو عوانہ یعقوب بن اسحاقؒ (م۲۷۶ھ)،حسین بن محمد بن زیادؒ(م۲۸۹ھ) آپ کی تالیف “صحیح مسلم” کا درجہ، صحیح البخاری کے بعد ہے-

  31. صحیح مسلم • کل احادیث ۷۲۷۵ • مکررات کے ساتھ ۵۷۷۷ • مکررات کے بغیر ۳۰۳۳

  32. شیخین اور متفق علیہ امام بخاری اور امام مسلم کو “شَیخَین” کہتے ہیں- وہ حدیث جس کی تخریج امام بخاریؒ اور امام مسلم دونوں نے کی ہو، اسے“مُتّفَقٌ عَلَیْہِ “ کہتے ہیں- ان کی تعداد دو ہزار تین سو چھبیس (۲۳۲۶) ہے- جزوی اختلافات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تعداد کم ہوکر ایک ہزار نوسوچھ (۱۹۰۶)رہ جاتی ہے-

  33. امام مالک بن انسؓ (پیدائش ۹۳ھ عمر ۸۶ سال، وفات ۱۷۹ھ) اساتذہ:امام نافع ؒ (م۱۱۷ھ)،سعیدؒ بن ابی سعید المقبری(م۱۲۰ھ)، امام زہریؒ (م۱۲۴ھ) شاگرد:ابن جریج ؒ (م۱۵۰ھ، مکہ)، امام اوزاعیؒ (م۱۵۷ھ،شام)، عبداللہ بن مبارکؒ (م۱۸۱ھ)، محمد بن حسن شیبانی شاگرد امام ابو حنیفہؒ (م۱۸۹ھ)، سفیان بن عینیہؒ (م۱۹۸ھ)، امام شافعی ؒ (م۲۰۴ھ)

  34. مُوَطَّا اِمام مالکؒ موطّا میں امام مالکؒ نے کل ۱۷۲۶ روایات جمع کی ہیں جن میں سے مرفوع ۶۰۰، مرسل ۲۲۸ اور موقوف (اقوال صحابہؓ) ۶۱۳ اور مقطوع (اقوال تابعین) ۲۸۵ ہیں- موطا میں چالیس “ثُنَایات” ہیں- یعنی حدیث صرف دو (۲) واسطوں سے رسول اللہ ﷺ تک پہنچ جاتی ہے-

  35. امام احمد بن شعیب نسائیؒ الخراسانی • (پیدائش ۲۱۵ھ- عمر ۸۸ سال- وفات ۳۰۳ھ) اساتذہ :قتیبہ بن سعیدؒ، امام اسحاقؒ، امام ابی داؤدؒ ، امام ترمذیؒ شاگرد:امام طبرانیؒ، امام طحاویؒ، احمد بن اسحاقؒ السنی کل احادیث:کل 5,758 سنن نسائی میں ضعیف احادیث کی تعداد سب سے کم ہے اور تحقیق البانیؒ کے مطابق اس میں کوئی موضوع حدیث نہیں ہے- ناصر الدین البانیؒ کی تحقیق کے مطابق سنن نسائی میں ۹۲ فیصد سے زیادہ احادیث صحیح ہیں-

  36. امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذیؒ سنن ترمذی • (پیدائش ۲۰۹ھ، عمر۷۰ سال، وفات ۲۷۹ھ) • استاد:امام بخاریؒ، امام مسلمؒ، امام ابو داؤدؒ شاگرد: کل احادیث:3,963 شیخ ناصر الدین البانیؒ کی تحقیق کے مطابق ترمذی میں ۸۰ فیصد سے زیادہ احادیث صحیح ہیں-

  37. امام ابو داؤد سلیمانؒ بن اشعث سجستانی (پیدائش ۲۰۲ھ- عمر۷۳ سال- وفات ۲۷۵ھ) سنن ابی داؤد استاد: احمد ابن حنبل ، اسحاق بن راہویہ، یحیی ابن معین شاگرد: امام ترمذی، امام نسائی، محمد بن عبدالرزاق کل احادیث:4,800 یہ کتاب فقہی اور قانونی مسائل کا بہترین ماخذ ہے- شیخ البانی ؒ کی تحقیق کے مطابق سنن ابی داؤدد میں ۷۸فیصد سے زیادہ احادیث صحیح ہیں-

  38. امام ابن ماجہ ابو عبداللہ ؒ محمد بن یزید • (پیدائش ۲۰۹ھ – عمر ۶۴ سال- وفات رمضان ۲۷۳ھ) • سنن ابن ماجہ استاد:امام ابو بکر بن ابی شیبہؒ (م۲۳۵ھ) سمیت 300 سے زائد شیوخ کل احادیث :4,341(فواد عبدالباقی) بعض محدثین کے نزدیک اٹھتر (78) روایتیں موضوع جبکہشیخ البانیؒ کی تحقیق کے مطابق موضوع احادیث کی تعداد ۴۱ ہے- 80 فیصد سے زائد احادیث صحیح ہیں-

More Related